Posts

Khush ‎Fehmi ‎

Image
محمد حنیف کا کالم:  حامد میر کیا چاہتا ہے؟ محمد حنیف صحافی و تجزیہ کار 4 جون 2021 ٹی وی صحافت کے عروج کے دنوں میں ایک سینیئر ساتھی نے بتایا تھا کہ یہ ایئرپورٹوں کے باہر اور چوراہوں پر جہازی سائز کے جن اینکروں کی تصویروں والے بورڈ لگے ہوتے ہیں یہ سب اینکر ایک نہ ایک دن پاگل ہو جائیں گے۔ میں نے کہا کہ کچھ کے ہونٹ زیادہ گلابی ہیں، کسی نے خضاب کم لگایا ہے، کوئی اخبار کے نیوز روم سے ریاضت کر کے نکلا ہے، کوئی پیدا ہی ٹی وی سٹوڈیو میں ہوا ہے، ان سب کا انجام ایک جیسا کیسے ہو سکتا ہے؟ جواب ملا کہ ہر روز، ہر گھر، بازار، دکان پر ہفتے میں چار پانچ دن نظر آنے کا نشہ سب کو لے ڈوبے گا۔ اپنی تصویر سے پیار ہو جاتا ہے، اپنی آواز حق سچ کی صدا لگنے لگتی ہے۔ مجھے اپنے سینیئر ساتھی کی تھیوری پر یقین نہیں آیا لیکن ذاتی تجربے سے اتنا جانتا ہوں کہ بیس، پچیس سال قلم کی مزدوری کی ہے۔ زندگی میں شاید ڈھائی مرتبہ ٹی وی پر آیا ہوں گا۔ اب بھی گاؤں میں پہچان ہے تو اتنی کہ وہ اُن کا لڑکا جو پہلے ٹی وی پر آتا تھا۔ پاکستان کے نیوز چینلوں پر نظر آنے والے چہروں میں سب سے زیادہ پہچانا جانے والا چہرہ حامد میر کا ہے۔ بلکہ...

وڑائچ ‏ ‏ ‏گروپ ‏

Image
ہر خاندان ہر گاؤں ہر شہر میں ایسے لوگ ضرور ہونگے جن میں مندرجہ ذیل 22 قابل ذکر باتوں میں کچھ نہ کچھ تو ضرور ہونگی اور ایسے لوگوں کو ہمارے ایک پیارے دوست نے وڑائچ گروپ کے لقب سے منسوب کیا ہے ۔ زندگی میں کامیابی کے لیے ان 22 چیزوں کو چھوڑ دیں فیصل ظفر زندگی میں کامیابی کی خواہش کسے نہیں ہوتی اور یقیناً آپ کو بھی ہوگی مگر ایسا کس طرح ممکن ہے؟ درحقیقت تقدیر کے ساتھ اس کی کنجی آپ کی چند عادات میں بھی چھپی ہوتی ہے جو بظاہر بے ضرر ہوتی ہیں، مگر آپ کو ناکامی کی جانب دھکیل رہی ہوتی ہیں یا یوں کہہ لیں کہ کامیابی کے حصول میں مددگار ثابت نہیں ہوتی۔ تو اگر آپ زندگی میں کامیابی کے خواہشمند ہیں تو ان چند سادہ چیزوں یا عادتوں سے پیچھا چھڑا لیں۔ پرفیکٹ یا مثالیت پسند بننے کی کوشش کریٹیو کامنز فوٹو مثالیت پسند درحقیقت ناکامی کی جانب لے جاتا ہے، یہ زندگی میں بہتری لانے کا کوئی اچھا ذریعہ نہیں بلکہ یہ آپ کے اندر یہ احساس جگاتا ہے کہ آپ کبھی بھی کسی دوسرے فرد جتنا اچھا نہیں بن سکتے اور یہ خیال آپ کو زندگی کی دوڑ میں پیچھے لے جاتا ہے۔ چھوٹے مقصد کو ذہن میں رکھنا رائٹرز فوٹو اپنے خیالات کو کشادہ...

احساس ‏

Image
یہ قدیم مسلم تاجروں کی روایت تھی کہ وہ صبح دکان کھولنے کے ساتھ ایک چھوٹی سی کرسی دکان کے باہر رکھتے تھے جوں ہی پہلا گاہک آتا دکاندار کرسی اس جگہ سے اٹھاتا اور دکان کے اندر رکھ دیتا تھا. لیکن جب دوسرا گاہک آتا دکاندار اپنی دکان سے باہر نکل کر بازار پر اک نظر ڈالتا جس دکان کے باہر کرسی پڑی ہوتی وہ گاہک سے کہتا کہ تمہاری ضرورت کی چیز اس دکان سے ملے  گی،میں صبح کا آغاز کرچکا ہوں. کرسی کا دکان کے باہر رکھنا اس بات کی نشانی ہوتی تھی کہ ابھی تک اس دکاندار نے آغاز نہیں کیا ہے. یہ مسلم تاجروں کا اخلاق اور محبت تھی نتیجتا ان پر برکتوں کا نزول ہوتا تھا.

ہماری آزادیوں کے دشمن ہماری کیا رہبری کریں گے​

Image

پانچ ‏ ‏باتیں ‏

Image
بچوں کی پرورش: اچھے والدین بننے کے لیے یہ پانچ باتیں یاد رکھیں۔۔ اپنے بچوں کی پرورش کے دوران ہم اپنے ماں باپ کے انداز سے متاثر ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے ہم اپنے بچوں کی پرورش اپنے ماں باپ کی طرح کرتے ہیں۔ ہوسکتا ہے ہم نے کچھ اچھی باتیں سیکھی ہوں۔ لیکن آپ یقیناً اور بھی بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ ماہر نفسیات فلیپا پیری نے اپنی کتاب  ’دا بک یو وش یور پیرنٹس ہیڈ ریڈ ‘ (وہ کتاب جو آپ چاہیں گے آپ کے والدین نے پڑھی ہوتی) میں لوگوں کو اچھے ماں باپ بننے کے مشورے دیے ہیں۔ وہ اس میں بتاتی ہیں کہ آپ اچھے والدین کیسے بن سکتے ہیں تاکہ آپ کے بچے زندگی کا بہتر آغاز کر سکیں۔ اس کے ساتھ ہی آپ کو اس کے لیے زیادہ کوشش بھی نہیں کرنی چاہیے۔ ماہر نفسیات کے مطابق اچھے ماں باپ بننے کے لیے آپ ان پانچ مشوروں پر عمل کریں: 1. حدود کا تعین جی ہاں یہ کافی مشکل ہوگا کیونکہ ہم سب ہی اپنے بچوں سے بے انتہا محبت کرتے ہیں۔ لیکن ایک موقع پر ہم اس کی حد پار کر دیتے ہیں۔ اگر آپ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ آپ اپنے بچوں کو کچھ زیادہ ہی آزاد رہنے دیتے ہیں تب بھی آپ کو کچھ حدود کا تعین کر لینا چاہیے۔ لیکن پیار کی حد کیسے بنا...